Featured post

بغداد

بغداد



مسلمان جغرافیہ دان احمد الیعقوبی نے نویں صدی میں لکھا۔ جہاں آج بغداد بنیادی طور پر جنگ، المیہ اور غم سے جڑا ہوا ہے، آٹھویں اور نویں صدی کا بغداد، جسے مدینۃ السلام یا امن کا شہر بھی کہا جاتا تھا ، دنیا کے جدید ترین شہروں میں سے ایک تھا۔  
بغداد شہر کی بنیاد دوسرے عباسی خلیفہ المنصور (754-775) کے دور میں رکھی گئی تھی۔ جس جگہ بغداد شہر کی بنیاد رکھی جارہی تھی اس کے قریب ہی کسی زمانے میں ساسانی سلطنت کا مرکز تیسیفون ہوا کرتا تھا۔
بہتر مقام کی تلاش کے لیے دجلہ کے کنارے پر موصل تک کے علاقے پر غور کیا گیا تھا آخر کار وہ مقام جہاں دریائے دجلہ اور نہر عیسی ملتی ہیں اس مقام کے قریب اس شہر کو بسانے کا فیصلہ کیا گیا۔
   منصور نے اس مخصوص مقام کا فیصلہ تزویراتی اور جغرافیائی فوائد کی وجہ سے کیا تھا۔
بغداد شہر کی تعمیر جولائی کے مہینے میں شروع کی گئی تھی۔اور اس منصوبے کو پورا کرنے کے لیے ساری دنیا سے ہنرمند اور ماہرین بلوائے گئے جو کہ اپنے اپنے شعبوں میں مہارت رکھتے تھے ان سب کام کرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ کے قریب تھی۔
آخر کار تقریباً 4 سال میں 1764_1768 بغداد کی تعمیر مکمل ہو گئی۔شہر کے اور عمارات کے ڈیزائن کے لیے رومن،یونانی اور ایرانی فن تعمیر کو مدنظر رکھا گیا تھا ۔
خلیفہ کی رہائش کے لیے جو محل تعمیر کیا گیا اسے گولڈن گیٹ پیلس کہا جاتا ہے (باب الذھب) یا دوسرا نام القبتہ الخضراء کہا جاتا تھا اور یہ شہر کے وسط میں تعمیر کیا گیا تھا ۔
شہر کی بیرونی دیواروں کی تعداد چار تھی اور جن کی اونچائی 30 میٹر تک تھی
گیارویں صدی کے خطیب البغدادی نے اس شہر کے متعلق حیرت کے احساس کو بہترین انداز میں بیان کیا جب انہوں نے کہا: "پوری دنیا میں کوئی بھی شہر ایسا نہیں ہے جس کی شان و شوکت اور بڑائی کا بغداد سے موازنہ کیا جا سکے۔
  علماء اور عظیم شخصیات کی تعداد میں... 
بے شمار سڑکیں، بازار، گلیاں، مساجد، حمام اور دکانیں یہ سب اس شہر کو باقی سب سے ممتاز کرتے ہیں۔"

اپنی تعمیر کے کچھ سال بعد سے ہی بغداد جنگوں کا بھی مرکز بن گیا تھا اور مختلف حلموں کی زد میں رہا
ان میں منگولوں کا بغداد پر حملہ اور امیر تیمور کا بغداد کا پر حملہ ان حملوں میں بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی تھی ۔
اس کے علاؤہ دور عباسی میں ہونے والی خانہ جنگی،سلجوقوں اور عباسیوں کی جنگ ،سلطنت عثمانیہ کی بغداد پر چڑھائی وہ واقعات ہیں جب اس شہر بے مثال کو بے پناہ نقصان اٹھانا پڑا۔۔


تبصرے