Featured post

سلطنت عثمانیہ حصہ 5(1774_1695)

سلطنت عثمانیہ


مصطفیٰ ثانی 1695_1703


سلیمان ثانی کے انتقال کے بعد 6 فروری 1695 کو مصطفیٰ ثانی تخت نشین ہوا ۔مصطفی ثانی محمد چہارم کا بیٹا تھا اور 6 فروری 1664 کو ادرنہ میں پیدا ہوا تھا ۔

مصطفیٰ ثانی کا دور بھی یورپی اتحاد کے ساتھ جنگوں میں گزرا یہ وہ دور تھا جب سلطنت عثمانیہ بہت سے علاقوں پر اپنا کنٹرول کھو رہی تھی اور اسکے زیر حکومت علاقے میں کمی ہوتی جارہی تھی ۔اسی دور میں موجودہ ہنگری سلطنت عثمانیہ کے کنٹرول سے نکل گیا

مختلف محاذوں پر شکست کے بعد جب سلطان مصطفیٰ ثانی واپس استنبول آیا تو اسے گرفتار کر کے قید کر دیا گیا اور اسی قید کے دوران 29 دسمبر 1703 کو سلطان کا انتقال ہو گیا ۔


احمد ثالث 1703_1730


مصطفیٰ ثانی کی گرفتاری کے بعد احمد ثالث 22 اگست 1703 کو تخت نشین ہوا ۔احمد ثالث بھی محمد چہارم کا بیٹا تھا اس کی ماں یونانی قوم سے تھی۔

احمد ثالث کے دور میں انگلینڈ اور فرانس سے تعلقات میں بہتری آئی تھی اور جب کہ روس کے ساتھ نئی جنگ شروع ہو گئی جسکی ایک وجہ سویڈن کے بادشاہ کو پناہ دینا بھی تھی جو کہ روس سے جنگ کے بعد شکست کھا کر سلطان احمد ثالث کے پاس آ گیا تھا۔ روس کے ساتھ جنگوں کے نتیجے میں دونوں سلطنتوں میں زیر قبضہ علاقوں کے متعلق معاہدے بھی کیے گئے۔

1730 کے آغاز میں سلطان کی مقبولیت گرنے لگی اور اس کے خلاف ایک تحریک کا آغاز ہو گیا جس کے نتیجے میں سلطان کو تخت چھوڑنا پڑا اور اپنی زندگی کے باقی سال قید کی حالت میں گزارنے پڑے ۔6 سال قید میں رہنے کے بعد یکم جولائی 1736 کو دوران قید ہی سلطان احمد ثالث کی موت ہوگئی۔


محمود اول 1730_1754

سلطان احمد ثالث کی معزولی کے بعد محمود اول 20 ستمبر 1730 کو سلطنت عثمانیہ کا نیا سلطان بنا ۔ محمود اول مصطفیٰ ثانی کا بیٹا تھا اور 2 اگست 1696 کو ادرنہ میں پیدا ہوا تھا ۔

محمود اول کو حکومت سنبھالتے ہی سب سے پہلے سلطنت میں باغی تحریکوں سے نمٹا پڑا ۔

محمود اول کے دور میں روس اور آسٹریا کی حکومتوں سے امن معاہدے کیے گئے ۔اس دور حکومت کا بڑا عرصہ ایران کے ساتھ جنگ میں گزرا ۔۔

13 دسمبر 1754 کو محمود اول کا بیماری کی وجہ سے انتقال ہو گیا ۔

محمود اول کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اسے شاعری کا شوق تھا اور ایک وقت ایسا آیا تھا کہ وہ حکومتی امور وزیروں کے سپرد کر کے خود شاعری میں مصروف رہتا تھا۔


عثمان ثالث 1754_1757


محمود اول کی وفات کے بعد عثمان ثالث تخت نشین ہوا۔عثمان ثالث 13 دسمبر 1754 کو تخت نشین ہواتھا۔ عثمان ثالث مصطفیٰ ثانی کا بیٹا تھا اور اس کی پیدائش 2 جنوری 1699 کو ادرنہ میں ہوئی تھی ۔

مصطفیٰ ثانی کی معزولی کے بعد دوسرے شہزادوں کی طرح عثمان ثالث کو بھی قید کر دیا گیا تھا اور سلطان بننے تک کا عرصہ قید میں ہی گزرا تھا ۔

عثمان ثالث کو زیادہ عرصے حکومت کرنے کا موقع نہیں ملا اور وہ 30 اکتوبر 1757 کو انتقال کر گیا۔



مصطفیٰ ثالث 1757_1774


عثمان ثالث کی موت کے بعد عنان اقتدار مصطفی ثالث کے حصے میں آیا اور وہ 30 اکتوبر 1757 کو سلطنت عثمانیہ کا نیا بادشاہ بنا۔ اس کا باپ احمد ثالث تھا اور اس کی پیدائش بھی ادرنہ کی تھی۔

یہ وہ دور تھا جب عثمانی سلطنت کی سرحدیں سمٹ رہی تھیں اور مختلف علاقوں میں عثمانی فوجوں کو پسپائی کا سامنا تھا۔مصطفی ثالث کی کوششوں سے مختلف یورپی ممالک کے ساتھ امن معاہدے کیے گئے ۔مگر روس کے ساتھ کشیدگی بڑھتے بڑھتے جنگ کی صورت اختیار کر گئی۔

اس کے علاؤہ مصطفی ثالث کے دور کی سب سے اہم بات اس دور میں عثمانی افواج کو ایک نئے انداز سے منظم کرنے کا کام شروع کیا گیا۔

مصطفیٰ ثالث طب اور فلکیات کا علم رکھتا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ شاعری سے بھی خاصا شغف رکھتا تھا

21 جنوری 1774 کو مصطفیٰ ثالث کا انتقال ہوا۔


تبصرے