- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
Featured post
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
وادی سندھ کی تہذیب
دنیاکی قدیم ترین تہذیبوں کا ذکر آئے تو ذہن میں میسوپوٹیمیا اور مصر کے ساتھ برصغیر پاک وہند کا نام آتا ہے۔میسوپوٹیمیا کی تہذیب موجودہ تحقیق کے مطابق دنیا کی سب سے قدیم تہذیب ہے جہاں انسان نے سب سے پہلے شہر بسائے اور کاشت کاری شروع کی۔اور تاریخ کا یہ دور 8000 قبل مسیح کے قریب کےزمانہ تک جاتا ہے۔
دوسری قدیم تہذیب برصغیر کی تہذیب کو قرار دیا جاتا ہے جو بعد میں وادی سندھ کی تہذیب بھی کہلائی اس تہذیب کے آغاز کا زمانہ 7500 قبل مسیح تک جاتا ہے ۔۔
تیسری قدیم ترین تہذیب سرزمین مصر کی تہذیب ہے یا جسے دریائے نیل کی تہذیب بھی کہا جاتا ہے۔اس تہذیب کا نقطہ آغاز 6000 قبل مسیح کے قریب تک کا ہے۔۔
آج کی پوسٹ میں وادی سندھ کی تہذیب اور اس سے متعلقہ مقامات جو پاکستان کا حصہ ہیں کا ذکر کرنے کی کوشش کی جائے گی
اس تہذیب کا آغاز مہرگڑھ کے آباد ہونے سے تصور کیا جاتا ہے کیونکہ اس علاقے میں انسانوں کی
یہ سب سے پہلی آبادی تھی اور یہیں سے بتدریج یہ تہذیب دوسرے علاقوں تک پھیلی۔
مہرگڑھ کی تاریخ 7000 قبل مسیح تک جاتی ہے۔۔یہی اس تہذیب کا نقطہ آغاز ہے اور
تقریبًا 1800 قبل مسیح میں اس تہذیب کا زوال شروع ہو گیا اور آنے والے کچھ سو سالوں میں اس تہذیب کے اکثر شہر ویران ہو گئے۔۔
اس تہذیب کے مشہور شہر مہر گڑھ،ہڑپہ،موہنجو داڑو،کوٹ دیجی رحمان ڈھیڑی وغیرہ تھے۔۔
وادی سندھ کی تہذیب کو کچھ ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔جن میں۔۔
مہرگڑھ اول ۔۔۔یہ دور 7000 قبل مسیح سے لے کر ۔5500 قبل مسیح کے درمیان کا ہے۔۔
مہر گڑھ 2
۔5500 قبل مسیح سے 3300 قبل مسیح کا درمیانی دور ۔
وادی سندھ کی تہذیب کو ہڑپہ کی تہذیب کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔۔کیونکہ ہڑپہ دریافت ہونے والا پہلا شہر تھا۔۔
۔3300 قبل مسیح سے 1900 قبل مسیح کے وقت کو پانچ ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے جن کو
ہڑپہ 1،ہڑپہ 2،3،4،5 کے نام دیے گئے ہیں۔۔
ہڑپہ کا ابتدائی دور
۔3300 قبل مسیح سے 2800 قبل مسیح کا درمیانی دور ابتدائی ہڑپہ دور کہلاتا ہے۔۔
ہڑپہ دوم
۔2800 قبل مسیح سے 2600 قبل مسیح کا درمیانی ہڑپہ دوم دور سے جانا جاتا ہے اور اس عرصے میں بڑی آبادیوں کی بنیاد پڑی جن میں ہڑپہ،موہنجو داڑو،کوٹ دیجی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
۔2600 قبل مسیح کے قریب کا زمانہ اس تہذیب کے عروج کا زمانہ تصور کیا جاتا ہے کیونکہ یہی وہ دور تھا جب چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں بسنے والوں نے منظم شہر آباد کیے۔پاکستان اںڈیا میں ان بڑی آبادیوں کے علاوہ تقریبًا پانچ سو سے کے قریب ایسے مقامات کی نشاندہی ہوئی جہاں اس دور میں آبادیاں قائم کی گئی تھیں
وقت کے ساتھ ساتھ 1700 قبل مسیح کے قریب یہ آبادیاں ویران ہونا شروع ہوگئی تھیں۔۔
.وادی سندھ کی تہذیب کا زوال جو 1900 قبل مسیح سے شروع ہوا تھا 1300 قبل مسیح میں مکمل ہوگیا اور یہ آباد شہر اور گاؤں ویران ہونے کے بعد نظروں سے اوجھل ہونا شروع ہو گئے۔۔
ان کے ویران اور غیر آباد ہونے کی وجہ دریا ؤں کا راستہ بدلنا بھی خیال جاتا ہے۔۔
ایک دوسری وجہ مون سون سسٹم کو بھی تصور کیا جاتا ہے۔۔
اور تیسری وجہ بیرونی علاقوں سے آنے والے لوگ جنہیں آریا کہا جاتا ہے بھی ان ان آبادیوں کے ویران ہونے کی وجہ تصور کیے جاتے ہیں۔۔
وادی سندھ کی تہذیب کی خاص بات ان کے شہروں کی تعمیر کا زبردست نظام گھر باقائدہ پلاننگ کے ساتھ تعمیر کیے جاتے تھے ،گھرو ں میں غسل خانے اور نکاسی آب کا زیرزمین نظام، پانی کے کنویں موجود ہوتے تھے۔
اس تہذیب کا اپنا رسم الخط تھا جو کہ ابھی تک معمہ بنا ہوا ہے اور اسے پڑھنے میں کامیابی نہیں ہو سکی۔۔
اس دور کے لوگوں کا وقت،لمبائی اور وزن کی پیمائش کا طریقہ جو کہ حیران کن حد تک درست تھا۔۔
قدیم تہذیبوں میں وادی سندھ کے مکین پہلے لوگ تھے جنہیوں نے وزن اور لمبائی کی پیمائش کے لیے نظام وضع کیا۔۔
ایک اندازے کے مطابق سندھ اور
راجھستان کے جو علاقے اب صحرا کا حصہ ہیں اس دور میں صحرا ئی علاقے نہیں تھے۔۔۔۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں